حدیث {۱۸} Hadees 18

حدیث {۱۸}

  عَنْ حُمَیْدِ الطَّوِیْلِ عَنْ أَنَسِِ بْنِِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اِذَ اسْتَفْتَحَ الصَّلوٰۃَ قَالَ سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ وَبِِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیْ فِیْ کِتَابِِہٖ الْمُفْرَدِ فِیْ الدُّعَائِ وَ اَسْنَادُہٗ جَیِّدَۃٌ آثَارَ السُّنَنْ(1) 
ترجمہ : - حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب نماز شروع کرتے تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ اِلٰی آخِرِہٖ پڑھتے ۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا۔ 
ترمذی(2)میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے بھی ایسا ہی آیا ہے ۔ امام ترمذی لکھتے ہیں کہ اکثر اہل علم تابعین وغیرہم کا اسی پر عمل ہے  ۔ حضرت سیدنا عمر وعبد اﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسی طرح روایت کیا گیاہے۔ ترمذی ابوداؤدابن ماجہ طحاوی میں حضرت سیدناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بھی اسی طرح آیا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبغرض تعلیم سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ بالجہر پڑھتے(3) ۔ جن روایتوں میں بجز سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کے دوسری دعائیں آئی ہیں وہ ہمارے نزدیک محمول بر تہجد ہیں ۔ 
چنانچہ صحیح ابوعوانہ و نسائی میں اس کی تصریح بھی آئی ہے۔ یا محمول بر ابتداء امر(1)۔ جیسا کہ شرح منیہ میں ابن امیر حاج نے فرمایا ہے ۔ 

________________________________
1 -   نصب الرایۃ۱ / ۳۲۱
2 -   جامع الترمذی۲ / ۱۱۔ 
3 -   الصحیح لمسلم۱ / ۲۹۹



Post a Comment

0 Comments